نئی دہلی، 19؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے کے ایک معاملے میں سابق کوئلہ سکریٹری ایچ سی گپتا، 2 عوامی خدمتگار ، نجی کمپنی وکاس میٹلس اینڈ پاور لمیٹڈ اور اس کے دو افسران کے خلاف آج الگ الگ الزامات طے کئے جس میں دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش شامل ہے۔خصوصی جج بھرت پراشر نے معاملے میں تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ شروع کیا جس میں اس سے پہلے عدالت نے سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ مسترد کر دی تھی۔عدالت نے جانچ ایجنسی سے معاملہ کی اور تحقیقات کرنے کو کہا تھا۔معاملہ مغربی بنگال میں موئرا اور مدھوجو ری(شمالی اور جنوبی)کوئلہ بلاک وی ایم پی ا یل کوالاٹ کرنے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ستمبر 2012میں سی بی آئی نے معاملے میں ایک ایف آئی آر درج کی تھی۔گپتا اور کمپنی کے علاوہ عدالت نے عوامی خدمتگار کے خلاف بھی مقدمہ شروع کیا جس میں کوئلہ کی وزارت کے سابق جوائنٹ سکریٹری کے ایس کروپھا ، کوئلہ وزارت کے سابق ڈائریکٹرسی اے آئی کے سی سمریا، کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر وکاس پٹنی اور اس کے مجاز دستخط کنندہ آنند ملک شامل ہیں۔ملزمان نے خود کو بے قصور قرار دیا اور کہا کہ وہ مقدمے کا سامنا کریں گے۔اس کے بعد عدالت نے معاملے کی آگے کی سماعت کے لیے 9ستمبر کی تاریخ طے کردی ۔گپتا کوئلہ گھوٹالے کے کئی معاملے میں ملزم ہیں اور اس وقت ضمانت پر ہیں۔انہوں نے حال میں عدالت سے کہا تھا کہ وہ جیل میں رہ کر مقدمے کا سامنا کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے ضمانت کے لیے دیا گیا ذاتی مچلکہ مالی پریشانیوں کی وجہ سے واپس لے لیا تھا۔انہوں نے نئی دہلی قانونی مدد سروس اتھارٹی کی جانب سے ایک وکیل یا عدالت کی جانب سے مقرر عدالتی دوست لینے کی عدالت کی پیشکش بھی ٹھکرا دی تھی۔ان کی درخواست فی الحال عدالت میں زیر التوا ہے۔